- نظم
- جب بھی رات کی تاریکی میں ہوتا ہوں اکیلا
- عجیب شخص تھا ہر ایک سے پیار مانگتا تھا
- دن رات سلگنے لگتے ہیں جب یاد تمہاری آتی ہے
- میں اور میری آوارگی
- چھن سے کچھ ٹوٹ جائے سینے میں
- جگماتے ہیں وحشتوں کے چراغ
- میں بھی کیاہوں اسے بھول کر اسی کا رہا
- اک روز۔۔۔
- درد وغم کے سوا عشق میں ملا کچھ بھی نہیں
- تجھے علم ہے اے طبیبِ جاں
- جب تم شامِ ودا کا آخری منظر
- آنسوؤں شام کی پلکوں پہ لرزتے رہنا
- اسے میں کیوں بتاؤں
- سمندر سے بہت دیر تک گفتگو نہ کر
- مٹا رہی تھی مجھے طرزِ انتہا اس کی
- کیا بہت ضروری ہے؟
- کبھی جیت گئے کبھی ہار گئے
- تو لفظوں کی طرح مجھ سے کتابوں میں ملا کر
- ہو رات اکیلی سندر سی اور چاند آنگن میں آ جائے
- کرے گا دونوں کا چاک پردہ
- زندگی پر ایک کتاب لکھونگا
- میری خوشی میری زندگی مکمل ہو جائے
- ہمت نہیں ہے کہ داستانِ زندگی ہم اپنی سنا سکیں
- لکھنا تو تھا کہ خوش ہوں تیرے بغیر بھی
- ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے
- لوگ طوفان اٹھا دینگے، میرے ساتھ نہ چل
- کافی عرصہ بیت گیا، جانے اب وہ کیسا ہوگا
- مجھے لکھنا نہیں آتا، مجھے لکھنا اگر آتا
- اپنی ہتھیلی پر اس کا نام تو لکھ لیا اُلفت
- واسطہ حسن یا شدت جذبات سے کیا
- محبت چیز ایسی ہے
- اس شہر کے لوگوں کی یہ عادت پرانی لگتی ہے
- سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
- بہت معصوم ہے الجھے گا، پھر انجان لفظوں میں
- اِک تبسم کسی کا مل جاتا
- میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل کے مکیں سہی
- سنبھالا ہوش ہے جب سے، مقدر سخت تر نکلا
- کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
- اس کڑی دھوپ میں جلتے ہوئے پاؤں کی طرح
- عادتیں اس کی تھی بس مجھ کو جلانے والی
- وہ خواب تھا بکھر گیا، کوئی خیال تھا ملا نہیں
- آؤ بارش سے تو پوچھیں